شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا
واں ہجومِ نغمہ ہائے سازِ عشرت تھا اسدؔناخنِ غم، یاں سرِ تارِ نفس مضراب تھا
Editors' notes
مقطع: مقطع کی وجہ سے لگتا ہے کہ یہ اور اگلی غزل دراصل دو الگ الگ غزلیں تھیں جن کو بعد میں خود غالبؔ نے ایک کر کے پیش کیا تھا۔ — اعجاز عبید
About this couplet
This is couplet 5 of 11 in “شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۵ / ۱۱