پئے نذرِ کرم تحفہ ہے "شرمِ نا رسائی" کا

نہ ہو "حُسنِ تماشا دوست" رسوا بے وفائی کابہ مہرِ صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا

Editors' notes

شعر: یہ شعر نسخۂ بھوپال بخظِ غالبؔ میں ایک علیٰحدہ غزل کا مطلع ہے جس کا ایک اور شعر یہ ہے:؎ تمنائے زباں محوِ سپاسِ بے زبانی ہے مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا درمیان میں تین مزید اشعار اور آخر میں مطلع بھی ہے۔ — اعجاز عبید

About this couplet

This is couplet 2 of 11 in “⁨پئے نذرِ کرم تحفہ ہے "شرمِ نا رسائی" کا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۲ / ۱۱