پئے نذرِ کرم تحفہ ہے "شرمِ نا رسائی" کا

بہ عجز آبادِ وہمِ مدّعا تسلیمِ شوخی ہےتغافل یوں نہ کر مغرور تمکیں آزمائی کا

Editors' notes

تغافل یوں: اصل نسخے میں "یوں" غالباً چھوٹ گیا ہے۔ — اعجاز عبید مزید: نسخۂ حمیدیہ میں "تغافل کو نہ کر" بجائے "تغافل یوں نہ کر"۔ — جویریہ مسعود

About this couplet

This is couplet 4 of 11 in “⁨پئے نذرِ کرم تحفہ ہے "شرمِ نا رسائی" کا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۴ / ۱۱