پئے نذرِ کرم تحفہ ہے "شرمِ نا رسائی" کا

نہ مارا جان کر بے جرم، غافل! تیری گردن پررہا مانند خونِ بے گُنہ، حق آشنائی کا

Editors' notes

غافل: نسخۂ حمیدیہ، نظامی، حسرت اور مہر کے نسخوں میں لفظ "قاتل" ہے۔ — جویریہ مسعود مزید: نسخۂ نظامی، نسخۂ حمیدیہ، نیز دیگر تمام پیشِ نظر قدیم نسخوں میں یہاں لفظ "غافل" ہی چھپا ہے۔ یہی لفظ نسخۂ طباطبائی اور نسخۂ عرشی میں ہے اور یہ معنوی لحاظ سے درست بھی معلوم ہوتا ہے مگر نسخۂ حسرت اور نسخۂ مہر دونوں میں یہاں لفظ "قاتل" ملتا ہے۔ شاید اس تبدیلی کا ذمہ دار نسخۂ حسرت کا کاتب ہو۔ — حامد علی خاں

About this couplet

This is couplet 6 of 11 in “⁨پئے نذرِ کرم تحفہ ہے "شرمِ نا رسائی" کا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۶ / ۱۱