جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھا
نہ بندھے تِشنگیٔ ذوق کے مضموں، غالبؔگرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
Editors' notes
ذوق: بعض جدید نسخوں میں یہاں "شوق" درج ہے مگر غالبؔ ہی کے کلام سے ثبوت ملتا ہے کہ بعض مقامات پر جہاں آج کل ہم "شوق" استعمال کرتے ہیں، وہاں غالبؔ نے "ذوق" لکھا۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 7 of 7 in “جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۷ / ۷