دیوانِ غالبردیف الف
میں اور بزمِ مے سے یوں، تشنہ کام آؤں
۱
میں اور بزمِ مے سے یوں، تشنہ کام آؤںگر میں نے کی تھی توبہ، ساقی کو کیا ہوا تھا؟
۲
ہے ایک تیر، جس میں دونوں چھِدے پڑے ہیںوہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا
۳
درماندگی میں غالبؔ کچھ بن پڑے تو جانوںجب رشتہ بے گرہ تھا، ناخن گرہ کشا تھا
۳۲ / ۳۰۷