دیوانِ غالبردیف الف

جَور سے باز آئے پر، باز آئیں کیا

۱

جَور سے باز آئے پر، باز آئیں کیاکہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا

۲

رات دن گردش میں ہیں سات آسماںہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

۳

لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاؤجب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا

۴

ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھیا رب اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا

۵

موجِ خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائےآستانِ یار سے اٹھ جائیں کیا

۶

عمر بھر دیکھا کیے مرنے کی راہمر گئے پر دیکھیے دکھلائیں کیا

۷

پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہےکوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

۴۹ / ۳۰۷