دیوانِ غالبردیف الف
بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آج
۱
بس کہ فعّالِ ما یرید ہے آجہر سلحشور انگلستاں کا
۲
گھر سے بازار میں نکلتے ہوئےزہرہ ہوتا ہے آب انساں کا
۳
چوک جس کو کہیں، وہ مقتل ہےگھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
۴
شہرِ دہلی کا ذرّہ ذرّہ خاکتشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا
۵
کوئی واں سے نہ آ سکے یاں تکآدمی واں نہ جا سکے یاں کا
۶
میں نے مانا کہ مل گئے، پھر کیاوہی رونا تن و دل و جاں کا
۷
گاہ جل کر کیا کیے شکوہسوزشِ داغ ہائے پنہاں کا
۸
گاہ رو کر کہا کیے باہمماجرا دیدہ ہائے گریاں کا
۹
اس طرح کے وصال سے یا ربکیا مٹے داغ دل سے ہجراں کا
۵۵ / ۳۰۷