دیوانِ غالبردیف الف

وردِ اسمِ حق سے، دیدارِ صنم حاصل ہوا

۱

وردِ اسمِ حق سے، دیدارِ صنم حاصل ہوارشتۂ تسبیح، تارِ جادۂ منزل ہوا

۲

محتسب سے تنگ ہے، از بس کہ کارِ مے کشاںرز میں جو انگور نکلا، عقدۂ مشکل ہوا

۳

قیس نے از بس کہ کی سیرِ گریبانِ نفسیک دو چیں دامانِ صحرا، پردۂ محمل ہوا

۴

وقتِ شب اُس شمع رو کے شعلۂ آواز پرگوشِ نسریں عارضاں، پروانۂ محفل ہوا

۵

خاکِ عاشق بس کہ ہے، فرسودہ پروازِ شوقجادہ ہر دشت، تارِ دامنِ قاتل ہوا

۶

عیب کا دریافت کرنا، ہے ہنرمندی اسدؔنقص پر اپنے ہوا جو مطلعِ، کامل ہوا

۵۷ / ۳۰۷