آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے

غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہےایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے؟

Editors' notes

کوئی ہے: نسخۂ مہر میں "کوئی ہے" کی جگہ "ہے کوئی" چھپا ہے۔ کسی دوسرے، پیشِ نظر، قدیم و جدید نسخوں میں یہ شعر اس طرح درج نہیں ہے۔ — حامد علی خاں

About this couplet

This is couplet 11 of 11 in “⁨آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے⁩” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۱۱ / ۱۱