مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
مانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوسزلفِ سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے
Editors' notes
مانگے: نسخۂ رضا میں "ڈھونڈے ہے" بجائے "مانگے ہے"۔ — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 12 of 17 in “مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱۲ / ۱۷