مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت، کہ رات دنبیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے
Editors' notes
کہ: نسخۂ مہر میں "کے"۔ — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 16 of 17 in “مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱۶ / ۱۷