نویدِ امن ہے بیدادِ دوست، جاں کے لیے
نویدِ امن ہے بیدادِ دوست، جاں کے لیےرہی نہ طرزِ ستم کوئی آسماں کے لیے
Editors' notes
غزل: غزل میں نواب تجمل حسین خاں فرخ آبادی سے متعلق مدحیہ اشعار ہیں۔ نواب صاحب کا انتقال ۹ نومبر ۱۸۴۶ کو ہوا تھا۔ غزل نسخہ کراچی مکتوبہ ۳۰ اگست ۱۸۴۵ میں نہیں ہے لہذا اسے ۳۰ اگست ۱۸۴۵ تا ۹ نومبر ۱۸۴۶ کی فکر کردہ تسلیم کرنا چاہیے۔ دیوانِ ذوقؔ مرتبہ آزادؔ میں درج ہے کہ یہ غزل نواب اصغر علی خاں نسیمؔ رام پوری مقیم دہلی کے طرحی مشاعرہ منعقدہ ۱۸۴۵ میں پڑھی گئی تھی۔ ذوقؔ، مومنؔ، داغؔ وغیرہ بھی موجود تھے۔ گویا مشاعرہ ۱۸۴۵ء میں بعد از ۳۰ اگست منعقد ہوا تھا۔ ظاہر ہے غزل بھی اسی زمانے میں کہی گئی ہو گی۔ — نسخۂ رضا
About this couplet
This is couplet 1 of 14 in “نویدِ امن ہے بیدادِ دوست، جاں کے لیے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱ / ۱۴