نویدِ امن ہے بیدادِ دوست، جاں کے لیے
گدا سمجھ کے وہ چپ تھا، مری جو شامت آئےاٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے
Editors' notes
مصرع: یہ عجیب بات ہے کہ نسخۂ حمیدیہ اور نسخۂ نظامی میں، نیز متعدد دوسرے قدیم نسخوں میں، یہ مصرع ایک ہی طور پر مہمل چھپا ہے، یعنی: ؏ گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری خوشامد سے — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 7 of 14 in “نویدِ امن ہے بیدادِ دوست، جاں کے لیے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۷ / ۱۴