بس کہ حیرت سے ز پا افتادۂ زنہار ہے
آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صداہر کوئی در ماندگی میں نالے سے نا چار ہے
Editors' notes
اشعار ۲: یہ تینوں شعر اصل قلمی نسخے میں حاشیے پر موٹے قلم سے بد خط شکستہ میں لکھے ہوئے ہیں۔ — پروفیسر حمید احمد خان
About this couplet
This is couplet 6 of 16 in “بس کہ حیرت سے ز پا افتادۂ زنہار ہے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۶ / ۱۶