یہ بزمِ مے پرستی، حسرتِ تکلیف بے جا ہے

نشاطِ دیدۂ بینا ہے، کُو خواب؟ و چہ بیداری؟بہم آوردہ مژگاں، روئے بر روئے تماشا ہے

Editors' notes

اشعار: اس شعر سے مقطع تک اشعار نسخۂ رضا سے شامل کیے گئے ہیں۔ — جویریہ مسعود

About this couplet

This is couplet 6 of 11 in “⁨یہ بزمِ مے پرستی، حسرتِ تکلیف بے جا ہے⁩” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۶ / ۱۱