نشۂ مے، بے چمن، دودِ چراغِ کشتہ ہے
رحم کر ظالم کہ کیا بودِ چراغِ کشتہ ہےنبضِ بیمارِ وفا دودِ چراغِ کشتہ ہے
Editors' notes
اشعار: متداول دیوان میں یہ غزل اِس اور اگلے شعر پر مشتمل ہے۔ مطلع اور باقی اشعار نسخۂ رضا سے شامل کیے گئے ہیں۔ — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 2 of 8 in “نشۂ مے، بے چمن، دودِ چراغِ کشتہ ہے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۲ / ۸