دیوانِ غالبردیف ی

گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے

۱

گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھےتب اماں ہجر میں دی بردِ لیالی نے مجھے

۲

نسیہ و نقدِ دو عالم کی حقیقت معلوملے لیا مجھ سے مری ہمّتِ عالی نے مجھے

۳

کثرت آرائیٔ وحدت ہے پرستاریٔ وہمکر دیا کافر ان اصنامِ خیالی نے مجھے

۴

ہوسِ گل کے تصوّر میں بھی کھٹکا نہ رہاعجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے

۵

زندگی میں بھی رہا ذوق فنا کا مارانشہ بخشا غضب اس ساغرِ خالی نے مجھے

۶

بس کہ تھی فصلِ خزانِ چمنستانِ سخنرنگِ شہرت نہ دیا تازہ خیالی نے مجھے

۷

جلوۂ خور سے، فنا ہوتی ہے شبنم، غالبؔکھو دیا سطوتِ اسمائے جلالی نے مجھے

۱۶۵ / ۳۰۷