ہجومِ غم سے یاں تک سر نگونی مجھ کو حاصل ہے

وہ گُل جس گُلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالبؔچٹکنا غنچۂ گُل کا صدائے خندۂ دل ہے

Editors' notes

غنچہ گل: "غنچۂ گُل" کی جگہ بعض مؤقر نسخوں میں "غنچہ و گُل" اور "غنچۂ دل" بھی چھپا ہے۔ اسے سہو کتابت کا نتیجہ سمجھنا چاہیے۔ غنچۂ گُل = گلاب کی کلی۔ غنچے کے ساتھ"گُل" کا بھی چٹکنے لگنا محل نظر ہے۔ — حامد علی خاں

About this couplet

This is couplet 7 of 7 in “⁨ہجومِ غم سے یاں تک سر نگونی مجھ کو حاصل ہے⁩” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۷ / ۷