جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
تب چاکِ گریباں کا مزا ہے دلِ نالاںجب اک نفس الجھا ہوا ہر تار میں آوے
Editors' notes
نالاں: مالک رام اور عرشی میں "دلِ ناداں" ہے، لیکن "نالاں" ہی غالبؔ کے اندازِ بیان کے مطابق زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔ — اعجاز عبید مزید: نسخۂ نظامی، نسخۂ طباطبائی، نسخۂ حسرتؔ موہانی اور متعدد دیگر نسخوں میں "دلِ نالاں" چھپا ہے۔ عرشی اور مالک رام کے نسخوں میں "دلِ ناداں" ملتا ہے۔ مضمونِ شعر یہاں "دلِ نالاں" ہی سے خطاب کا متقاضی معلوم ہوتا ہے۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 9 of 11 in “جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۹ / ۱۱