شفق بدعویٔ عاشق گواہِ رنگیں ہے

کبھی تو اِس سرِ شوریدہ کی بھی داد ملے!کہ ایک عُمر سے حسرت پرستِ بالیں ہے

Editors' notes

سر: نسخۂ حامد علی خاں میں "سرِ شوریدہ" کی جگہ "دلِ شوریدہ" درج ہے۔ ملاحظہ ہو ان کا حاشیہ: — جویریہ مسعود نسخۂ عرشی میں غالباً بالیں کی رعایت سے "سرِ شوریدہ" درج کیا گیا ہے، مگر دوسرے قدیم و جدید نسخوں میں، جو نظر سے گزرے، "دلِ شوریدہ" ہی چھپا ہے۔ طباطبائی نے متن میں "دلِ شوریدہ" درج کر کے احتمال ظاہر کیا ہے کہ غالبؔ نے "سرِ شوریدہ" ہی لکھا ہو گا۔ پھر لکھتے ہیں کہ "معنیٔ شعر دونوں طرح ظاہر ہیں۔" — حامد علی خاں

About this couplet

This is couplet 3 of 9 in “⁨شفق بدعویٔ عاشق گواہِ رنگیں ہے⁩” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۳ / ۹