بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگےہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
Editors' notes
غزل: یہ غزل بھی "بشر ہے، کیا کہیے" والی غزل کے ساتھ کہی گئی تھی، ۱۰ اپریل ۱۸۵۳ء کو یا اس سے ایک دو روز پہلے۔ مگر دہلی اردو اخبار (تتمہ) میں ۲۲ مئی ۱۸۵۳ء کو شائع ہوئی تھی۔ — نسخۂ رضا
About this couplet
This is couplet 1 of 14 in “بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱ / ۱۴