عرضِ نازِ شوخیٔ دنداں برائے خندہ ہے
سوزشِ باطن کے ہیں احباب منکر ورنہ یاںدل محیطِ گریہ و لب آشنائے خندہ ہے
Editors' notes
سوزش: نسخۂ عرشیؔ اور بعض دیگر مؤقر نسخوں میں یہاں "سوزش" کی جگہ "شورش" چھپا ہے۔ شاعر نے یقیناً "سوزشِ باطن" ہی کہا ہو گا کیونکہ احباب اُس کے لب ہائے خنداں کو دیکھ کر اُس کے غمِ پنہاں کا انکار کرتے ہیں۔ خندہ آشنا لبوں کا تقابل "سوزشِ باطن" سے ہو سکتا ہے۔ شورشِ باطن کا ذکر یہاں غیر متعلق سا ہے۔ نسخۂ نظامی میں "سوزشِ باطن" ہی درج ہے۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 5 of 7 in “عرضِ نازِ شوخیٔ دنداں برائے خندہ ہے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۵ / ۷