جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی
ہے وحشتِ طبیعتِ ایجاد یاس خیزیہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
Editors' notes
مصرع: نوٹ: یہ مصرعہ مختلف نسخوں میں مختلف ہے… نسخۂ مہرؔ: ؏ یہ درد وہ نہیں ہےکہ پیدا کرے کوئی نسخۂ طاہرؔ: ؏ یہ درد وہ نہیں ہے جو پیدا کرے کوئی نسخۂ آسیؔ: ؏ یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی نسخۂ حمیدیہؔ: ؏ یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی مزید: نسخۂ رضا میں یہ شعر اُس غزل کا حصہ ہے جس کا مطلع ہے، ؎ وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی؟ ہستی کو لفظِ معنیٔ عنقا کرے کوئی — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 11 of 14 in “جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱۱ / ۱۴