مستی، بہ ذوقِ غفلتِ ساقی ہلاک ہے
جوشِ جنوں سے کچھ نظر آتا نہیں، اسدؔصحرا ہماری آنکھ میں یک مشتِ خاک ہے
Editors' notes
اسد: نسخۂ مہرؔ میں "اسد" کی جگہ "مجھے" چھپا ہے مگر یہ سہوِ کتابت معلوم ہوتا ہے کیونکہ دوسرے مصرع میں متکلم نے صیغۂ جمع استعمال کیا ہے۔ کسی دوسرے نسخے سے اس کی سند بھی نہیں ملتی۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 6 of 6 in “مستی، بہ ذوقِ غفلتِ ساقی ہلاک ہے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۶ / ۶