خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے
خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہےنگاہ دل سے تری سُرمہ سا نکلتی ہے
Editors' notes
تری: نسخۂ حسرتؔ میں "ترے" چھپا ہے۔ قدیم نسخوں میں "ترے" اور "تری" کی تمیز مشکل تھی۔ شعر کا مفہوم دونوں صورتوں میں تقریباً ایک ہی رہتا ہے۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 1 of 7 in “خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱ / ۷