خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے
بہ حلقۂ خمِ گیسو ہے راستی آموزدہانِ مار سے گویا صبا نکلتی ہے
Editors' notes
اشعار: اس شعر سے آخر تک کے اشعار نسخۂ رضا سے شامل کیے گئے ہیں۔ — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 4 of 7 in “خموشیوں میں تماشا ادا نکلتی ہے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۴ / ۷