جس جا نسیم شانہ کشِ زلفِ یار ہے
بے پردہ سوئے وادیٔ مجنوں گزر نہ کرہر ذرّے کے نقاب میں دل بے قرار ہے
Editors' notes
کے: نسخۂ طباطبائی میں "کی نقاب" چھپا ہے۔ قدیم نسخوں میں یوں بھی ہر جگہ عموماً یائے حُطّی ہی چھپی ہے مگر نقاب کی تذکیر و تانیث کے بارے میں تو دہلی و لکھنؤ کا جُدا جُدا شیوہ بھی تھا۔ غالبؔ نے لکھا ہے: ؏ زلف سے بڑھ کر نقاب اُس شوخ کے رخ پر کھلا — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 7 of 14 in “جس جا نسیم شانہ کشِ زلفِ یار ہے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۷ / ۱۴