بس کہ ہیں بد مستِ بشکن بشکنِ مے خانہ ہم

غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفسبرق سے کرتے ہیں روشن، شمعِ ماتم خانہ ہم

Editors' notes

اشعار: متداول دیوانِ غالبؔ میں یہ غزل شعرِ ہذا تا آخر ہے۔ مطلع اور اس سے پہلے کے اشعار نسخۂ رضا سے شامل کیے گئے ہیں۔ — جویریہ مسعود

About this couplet

This is couplet 10 of 15 in “⁨بس کہ ہیں بد مستِ بشکن بشکنِ مے خانہ ہم⁩” in the section Ghazals — Radeef Meem, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۱۰ / ۱۵