بس کہ ہیں بد مستِ بشکن بشکنِ مے خانہ ہم

دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنّائیں اسدؔجانتے ہیں سینۂ پر خوں کو زنداں خانہ ہم

Editors' notes

شعر ۲: نسخۂ حمیدیہ میں یہ مصرع یوں ہے: ؏ شامِ غم میں سوزِ عشقِ شمع رویاں سے اسدؔ۔ ملاحظہ ہو نسخۂ حمیدیہ کا حاشیہ: اس مصرع کا آخری حصہ بعد میں "سوزِ عشقِ آتشِ رخسار سے" بدلا گیا ہے۔ حاشیے میں موٹے قلم سے شکستہ خط میں یہ مقطع لکھا ہے: ؎ دائم الحبس اس میں ہے لاکھوں تمنائیں اسدؔ جانتے ہیں سینۂ پر خوں کو زنداں خانہ ہم — جویریہ مسعود

About this couplet

This is couplet 14 of 15 in “⁨بس کہ ہیں بد مستِ بشکن بشکنِ مے خانہ ہم⁩” in the section Ghazals — Radeef Meem, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۱۴ / ۱۵