دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں
دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیںیعنی ہمارے جَیب میں اک تار بھی نہیں
Editors' notes
جیب: جَیب، جیم پر فتح (زبر) مذکّر ہے، بہمعنیٔ گریبان۔ اردو میں جیب، جیم پر کسرہ (زیر) کے ساتھ، بہمعنیٔ کِیسہ (pocket) استعمال میں زیادہ ہے۔ یہ لفظ مؤنث ہے، اس باعث اکثر نسخوں میں "ہماری" ہے۔ قدیم املا میں یائے معروف ہی یائے مجہول (بڑی ے) کی جگہ بھی استعمال کی جاتی تھی، اس لیے یہ غلط فہمی مزید بڑھ گئی۔ — اعجاز عبید مزید: "جَیب" بہمعنیٔ "گریبان" مذکّر ہے اور اِس لفظ کا تلفظ جیمِ مفتوح سے ہوتا ہے۔ چونکہ دیوانِ غالبؔ کے قدیم نسخوں میں عموماً یائے حُطّی ہی استعمال ہوئی ہے، اِس لیے دیوان کے جدید متداول نسخوں میں بھی "ہماری جَیب" (بجائے "ہمارے جَیب") چھَپ گیا اور یہ غلطی عام ہو گئی۔ "جَیب" رفتہ رفتہ، مجازاً، بہمعنیٔ "کِیسہ" استعمال ہونے لگا، کیونکہ خود عرب لوگ بھی گریبان کے اندر کِیسہ رکھتے تھے۔ اردو اور فارسی میں یہ لفظ بہمعنیٔ "کِیسہ" علی التّرتیب یائے مجہول اور یائے معروف سے بولا جاتا ہے۔ اردو میں جیب (بہمعنیٔ "کِیسہ") مؤنث ہے۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 1 of 10 in “دیوانگی سے دوش پہ زنّار بھی نہیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱ / ۱۰