بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر، در و دیوار
وفورِ اشک نے کاشانے کا کیا یہ رنگکہ ہو گئے مرے دیوار و در، در و دیوار
Editors' notes
کاشانے: مولانا عبد الباری آسی لکھنوی کے نسخے میں "کاشانہ" بجائے "کاشانے"۔ — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 2 of 10 in “بلا سے ہیں جو یہ پیشِ نظر، در و دیوار” in the section Ghazals — Radeef Re, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۲ / ۱۰