حسد سے دل اگر افسردہ ہے، گرمِ تماشا ہو

حسد سے دل اگر افسردہ ہے، گرمِ تماشا ہوکہ چشمِ تنگ شاید کثرتِ نظّارہ سے وا ہو

Editors' notes

اشعار: مروجہ دیوان میں اس غزل کے یہ پہلے تین اشعار ہیں، باقی اشعار نسخۂ رضا سے شامل کیے گئے ہیں۔ — جویریہ مسعود

About this couplet

This is couplet 1 of 9 in “⁨حسد سے دل اگر افسردہ ہے، گرمِ تماشا ہو⁩” in the section Ghazals — Radeef Wao, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۱ / ۹