کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو
وہ اپنی خُو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیںسبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
Editors' notes
چھوڑیں: کچھ نسخوں میں "وضع کیوں بدلیں" ہے۔ — جویریہ مسعود مزید: اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ خود غالبؔ نے "وضع کیوں بدلیں" کہا تھا۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 2 of 11 in “کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو” in the section Ghazals — Radeef Wao, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۲ / ۱۱