بے گانۂ وفا ہے ہوائے چمن ہنوز
فارغ مجھے نہ جان کہ مانندِ صبح و مہرہے داغِ عشق، زینتِ جیبِ کفن ہنوز
Editors' notes
اشعار: متداول دیوان میں یہ غزل صرف ان تین اشعار پر مشتمل ہے۔ مطلع اور باقی اشعار تا مقطع نسخۂ رضا سے شامل کیے گئے ہیں۔ — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 2 of 8 in “بے گانۂ وفا ہے ہوائے چمن ہنوز” in the section Ghazals — Radeef Ze, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۲ / ۸