مرثیہ

کچھ اور ہی عالم نظر آتا ہے جہاں کاکچھ اور ہی نقشہ ہے دل و چشم و زباں کاکیسا فلک! اور مہرِ جہاں تاب کہاں کا!ہو گا دلِ بے تاب کسی سوختہ جاں کااب صاعقہ و مہر میں کچھ فرق نہیں ہےگِرتا نہیں اس روُ سے کہو برق نہیں ہے

Editors' notes

مصرع: نسخۂ مہرؔ میں یہ مصرع اس طرح درج ہے: ؏ اب مہر میں اور برق میں کچھ فرق نہیں ہے — جویریہ مسعود

About this couplet

This is couplet 3 of 3 in “⁨مرثیہ⁩” in the section Marsiya, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۳ / ۳