دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا

دل سخت نژند ہو گیا ہے گویااُس سے گِلہ مند ہو گیا ہے گویاپَر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیںغالبؔ منہ بند ہو گیا ہے گویا

About this couplet

This is couplet 1 of 1 in “⁨دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا⁩” in the section Rubaiyat, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۱ / ۱