دیوانِ غالبرباعیات

دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ

۱

دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔدل رُک رُک کر بند ہو گیا ہے غالبؔواللّٰہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیںسونا سَوگند ہو گیا ہے غالبؔ

۲۸۹ / ۳۰۷