آتش بازی ہے جیسے شغلِ اطفال

آتش بازی ہے جیسے شغلِ اطفالہے سوزِ جگر کا بھی اسی طور کا حالتھا مُوجدِ عشق بھی قیامت کوئیلڑکوں کے لیے گیا ہے کیا کھیل نکال!

About this couplet

This is couplet 1 of 1 in “⁨آتش بازی ہے جیسے شغلِ اطفال⁩” in the section Rubaiyat, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۱ / ۱