اِس رشتے میں لاکھ تار ہوں، بلکہ سِوا
اِس رشتے میں لاکھ تار ہوں، بلکہ سِوااِتنے ہی برس شُمار ہوں، بلکہ سِواہر سیکڑے کو ایک گرہ فرض کریںایسی گرہیں ہزار ہوں، بلکہ سِوا
About this couplet
This is couplet 1 of 1 in “اِس رشتے میں لاکھ تار ہوں، بلکہ سِوا” in the section Rubaiyat, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱ / ۱