دیوانِ غالبرباعیات
اے منشیٔ خیرہ سر! سخن ساز نہ ہو
۱
اے منشیٔ خیرہ سر! سخن ساز نہ ہوعصفور ہے تو، مقابلِ باز نہ ہوآواز تیری نکلی اور آواز کے ساتھلاٹھی وہ لگی کہ جس میں آواز نہ ہو
۳۰۵ / ۳۰۷
دیوانِ غالبرباعیات
اے منشیٔ خیرہ سر! سخن ساز نہ ہوعصفور ہے تو، مقابلِ باز نہ ہوآواز تیری نکلی اور آواز کے ساتھلاٹھی وہ لگی کہ جس میں آواز نہ ہو
۳۰۵ / ۳۰۷