نوائے سروشغزلیات

وضعِ نیرنگیٔ آفاق نے مارا ہم کو

۱

وضعِ نیرنگیٔ آفاق نے مارا ہم کوہو گئے سب ستم و جَور گوارا ہم کو

۲

دشتِ وحشت میں نہ پایا کسی صورت سے سراغگردِ جولانِ جنوں تک نے پکارا ہم کو

۳

عجز ہی اصل میں تھا حاملِ صد رنگِ عروجذوقِ پستیٔ مصیبت نے ابھارا ہم کو

۴

ضعف مشغول ہے بے کار بہ سعیٔ بیجاکر چکا جوشِ جنوں اب تو اشارہ ہم کو

۵

صورِ محشر کی صدا میں ہے افسونِ امّیدخواہشِ زیست ہوئی آج دوبارا ہم کو

۶

تختۂ گور سفینے کے مماثل ہے اسدؔبحرِ غم کا نظر آتا ہے کنارا ہم کو

۷ / ۲۰