نوائے سروشغزلیات
نہ پوچھ حال اس انداز اس عتاب کے ساتھ
۱
نہ پوچھ حال اس انداز اس عتاب کے ساتھلبوں پہ جان بھی آجائے گی جواب کے ساتھ
۲
مجھے بھی تاکہ تمنّا سے ہو نہ مایوسیملو رقیب سے لیکن ذرا حجاب کے ساتھ
۳
نہ ہو بہ ہرزہ روادارِ سعیٔ بے ہودہکہ دورِ عیش ہے مانا خیال و خواب کے ساتھ
۴
بہ ہر نمط غمِ دل باعثِ مسرّت ہےنموئے حیرتِ دل ہے ترے شباب کے ساتھ
۵
لگاؤ اس کا ہے باعث قیامِ مستی کاہَوا کو لاگ بھی ہے کچھ مگر حباب کے ساتھ
۶
ہزار حیف کہ اتنا نہیں کوئی غالبؔکہ جاگنے کو ملا دیوے آ کے خواب کے ساتھ
۹ / ۲۰