نوائے سروشغزلیات

بتائیں ہم تمھارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے

۱

بتائیں ہم تمھارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھےاِسے ہم سانپ سمجھے اور اُسے من سانپ کا سمجھے

۲

یہ کیا تشبیہِ بے ہودہ ہے، کیوں موذی سے نسبت دیںہُما عارض کو اور کاکل کو ہم ظلِّ ہما سمجھے

۳

غلط ہی ہو گئی تشبیہ، یہ تو ایک طائر ہےاسے برگِ سمن اور اُس کو سنبل کی جٹا سمجھے

۴

نباتاتِ زمیں سے کیا ان کو نسبت؟ معاذ اللّٰہاسے برق اور اُسے ہم کالی ساون کی گھٹا سمجھے

۵

گھٹا اور برق سے کیوں کر گھٹا کر ان کو نسبت دیںاسے ظلمات، اُسے ہم چشمۂ آبِ بقا سمجھے

۶

جو کہیے یہ، فقط مقصود تھا خضر و سکندر سےیدِ بیضا اسے اور اُس کو موسیٰ کا عصا سمجھے

۷

جو اس تشبیہ سے بھی داغ اُن دونوں کو آتا ہواسے وقتِ نمازِ صبح اور اُس کو عشاء سمجھے

۸

جو یہ نسبت پسندِ خاطرِ والا نہ ہو تو پھراسے قندیلِ کعبہ، اُس کو کعبے کی ردا سمجھے

۹

اسدؔ ان ساری تشبیہوں کو رد کرکے یہ کہتا ہےسویدا اِس کو سمجھے اُس کو ہم نورِ خدا سمجھے

۱۰ / ۲۰