نوائے سروشغزلیات
بتائیں ہم تمھارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے
بتائیں ہم تمھارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھےاِسے ہم سانپ سمجھے اور اُسے من سانپ کا سمجھے
یہ کیا تشبیہِ بے ہودہ ہے، کیوں موذی سے نسبت دیںہُما عارض کو اور کاکل کو ہم ظلِّ ہما سمجھے
غلط ہی ہو گئی تشبیہ، یہ تو ایک طائر ہےاسے برگِ سمن اور اُس کو سنبل کی جٹا سمجھے
نباتاتِ زمیں سے کیا ان کو نسبت؟ معاذ اللّٰہاسے برق اور اُسے ہم کالی ساون کی گھٹا سمجھے
گھٹا اور برق سے کیوں کر گھٹا کر ان کو نسبت دیںاسے ظلمات، اُسے ہم چشمۂ آبِ بقا سمجھے
جو کہیے یہ، فقط مقصود تھا خضر و سکندر سےیدِ بیضا اسے اور اُس کو موسیٰ کا عصا سمجھے
جو اس تشبیہ سے بھی داغ اُن دونوں کو آتا ہواسے وقتِ نمازِ صبح اور اُس کو عشاء سمجھے
جو یہ نسبت پسندِ خاطرِ والا نہ ہو تو پھراسے قندیلِ کعبہ، اُس کو کعبے کی ردا سمجھے
اسدؔ ان ساری تشبیہوں کو رد کرکے یہ کہتا ہےسویدا اِس کو سمجھے اُس کو ہم نورِ خدا سمجھے
۱۰ / ۲۰