وفا جفا کی طلب گار ہوتی آئی ہے

وفا جفا کی طلب گار ہوتی آئی ہےازل کے دن سے یہ اے یار ہوتی آئی ہے

About this couplet

This is couplet 1 of 4 in “⁨وفا جفا کی طلب گار ہوتی آئی ہے⁩” in the section Ghazals, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Nawa-e-Sarosh (⁨نوائے سروش⁩).

Read it in the poem

۱ / ۴