نوائے سروشغزلیات
وفا جفا کی طلب گار ہوتی آئی ہے
۱
وفا جفا کی طلب گار ہوتی آئی ہےازل کے دن سے یہ اے یار ہوتی آئی ہے
۲
جوابِ جنّتِ بزمِ نشاطِ جاناں ہےمری نگاہ جو خونبار ہوتی آئی ہے
۳
نموئے جوشِ جنوں وحشیو! مبارک بادبہار ہدیۂ انظار ہوتی آئی ہے
۴
دل و دماغِ وفا پیشگاں کی خیر نہیںجگر سے آہِ شرر بار ہوتی آئی ہے
۱۲ / ۲۰