نوائے سروشغزلیات
درد ہو دل میں تو دوا کیجے
۱
درد ہو دل میں تو دوا کیجےدل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے
۲
ہم کو فریاد کرنی آتی ہےآپ سنتے نہیں تو کیا کیجے
۳
ان بتوں کو خدا سے کیا مطلبتوبہ توبہ خدا خدا کیجے
۴
رنج اٹھانے سے بھی خوشی ہو گیپہلے دل درد آشنا کیجے
۵
عرضِ شوخی نشاطِ عالم ہےحسن کو اور خود نما کیجے
۶
دشمنی ہو چکی بہ قدرِ وفااب حقِ دوستی ادا کیجے
۷
موت آتی نہیں کہیں غالبؔکب تک افسوس زیست کا کیجے
۱۷ / ۲۰