نوائے سروشغزلیات
ہم سے خوبانِ جہاں پہلو تہی کرتے رہے
۱
ہم سے خوبانِ جہاں پہلو تہی کرتے رہےہم ہمیشہ مشقِ از خود رفتگی کرتے رہے
۲
کثرت آرائی خیالِ ما سوا کی وہم تھیمرگ پر غافل گمانِ زندگی کرتے رہے
۳
داغ ہائے دل چراغِ خانۂ تاریک تھےتا مغاکِ قبر پیدا روشنی کرتے رہے
۴
شورِ نیرنگِ بہارِ گلشنِ ہستی، نہ پوچھہم خوشی اکثر رہینِ ناخوشی کرتے رہے
۵
رخصت اے تمکینِ آزارِ فراقِ ہمرہاںہو سکا جب تک غمِ واماندگی کرتے رہے
۱۶ / ۲۰