نوائے سروشغزلیات
کس کی برقِ شوخیٔ رفتار کا دلدادہ ہے
۱
کس کی برقِ شوخیٔ رفتار کا دلدادہ ہےذرّہ ذرّہ اس جہاں کا اضطراب آمادہ ہے
۲
ہے غرورِ سرکشی صورت نمائے عجز بھیمنقلب ہو کر بسانِ نقشِ پا افتادہ ہے
۳
خانہ ویراں سازیٔ عشقِ جفا پیشہ نہ پوچھنامرادوں کا خطِ تقدیر تک بھی سادہ ہے
۴
خود نشاط و سرخوشی ہے آمدِ فصلِ بہارآج ہر سیلِ رواں عالم میں موجِ بادہ ہے
۵
زندگانی رہروِ راہِ فنا ہے اے اسدؔہر نفس ہستی سے تا ملکِ عدم اک جادہ ہے
۱۹ / ۲۰