نوائے سروشغزلیات
اس جور و جفا پر بھی بدظن نہیں ہم تجھ سے
۱
اس جور و جفا پر بھی بدظن نہیں ہم تجھ سےکیا طرفہ تمنّا ہے امیدِ کرم تجھ سے
۲
امّیدِ نوازش میں کیوں جیتے تھے ہم آخرسہتے ہی نہیں کوئی جب درد و الم تجھ سے
۳
وارفتگیٔ دل ہے یا دستِ تصرّف ہےہیں اپنے تخیّل میں دن رات بہم تجھ سے
۴
یہ جور و جفا سہنا پھر ترکِ وفا کرنااے ہرزہ پژوہی بس عاجز ہوئے ہم تجھ سے
۵
غالبؔ کی وفا کیشی اور تیری ستم رانیمشہورِ زمانہ ہے اب کیا کہیں ہم تجھ سے
۲۰ / ۲۰